Introductory Course On Education Management Information System

Introduction

Today all schools systems are data driven. Technology has helped the development of education sector like any other sector. Today computers are helping delivery of education as well as the management of education systems.


Evidence based policy making is not a common phenomenon in policy makers of third world countries. In order to encourage data driven decision making policy makers need to understand the process by which data can be used for choosing the most effective solutions to a problem. The seminar series uses case study method and we will use EMIS data from KPK province for learning exercise. The seminar series will equip you to play a role as planner in private school chains, non governmental organizations and government education department. The Government of KPK has already started strengthening its M&E department and is in the process of hiring 300 data collecting officers. A better understanding of this subject will improve your chances of success in finding a suitable job.


Below you can download the data file for analysis

Exercise Page 1
تعارف

آج کے جدید دور میں کوئی بھی سکول سسٹم ڈیٹا کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جہاں اور بہت سارے کام سہل کردیے ہیں وہیں پر تعلیم کے شعبے میں اس کی وجہ سے بہت فرق آگیا ہے۔ آج کمپیوٹر کی مدد سے لوگ صرف سیکھ ہی نہیں رہے بلکہ سکولوں کے نظام کو چلانے کے لیے کمپیوٹرکا استعمال ہو رہا ہے۔

پالیسی سازی میں ٹھوس شواہد استعمال کرنا تیسری دنیا کے سیاست دانوں کی ترجیع نہیں رہی ہے۔ اس لیے بات اہم ہوتی جارہی ہے کہ فیصلہ سازی میں ڈیٹا اور انفارمیشن کو استعمال کیا جائے۔ حکومت صوبہ سرحد نے اپنے سرکاری سکولوں کے نظام کو چلانے کے لیے ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم تاعینات کیا ہوا ہے۔ اس سسٹم کو تقویت دینے کے لیے مزید بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ پراویٹ سکول سسٹم بھی اس کا استعمال کررہے ہیں۔ اس کورس میں شرکت کرنے سے آپ کے نوکری ڈھونڈنے کے مواقع وسیع اور روشن ہو سکتے ہیں۔

اس کورس میں محکمہ تعلیم صوبہ سرحد کا ڈیٹا سیکھنے کے لیے استعمال ہو گا۔ آ کے لیے کمپیوٹر کے آگاہی ہونا ضروری نہیں۔




Ĉ
Noor Mohammed,
Nov 2, 2012, 6:27 AM
Comments